اندور:12/مئی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) اندور میں روح فرسا سانحہ جس نے انسانیت کاسر شرم سے جھکادیاتھا،کے تناظر میں ضلعی عدالت نے ملزم نوین کو دو دفعات میں دوہرے پھانسی کی اور ایک دفعہ کے تحت عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ جج نے 7 دن تک سات سات گھنٹے اس کی سماعت کی اور21 ویں دن سماعت مکمل ہونے کے بعد 23 ویں دن ہفتہ کو فیصلہ سنادیا۔ واضح ہو کہ3ماہ کی بچی کے ساتھ 20 اپریل کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔پھر اس کو درندگی کے سا تھ موت کے گھاٹ بھی اتار دیا گیا۔ اس مقدمہ کے51 صفحے کے فیصلے میں جج نے لکھا ہے کہ ملزم نے تین ماہ 4 دن کے معصوم بچیوں (جو رونے اور مسکرانے کے علاوہ کچھ نہیں جانتی تھی) کے ساتھ عصمت دری کے بعد وحشیانہ قتل کردیا۔ یہ ایک شخص کے خلاف نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے خلاف جرم ہے۔ فی الحال اس طرح کی عصمت دری اور قتل کے بڑھتے واقعات کی وجہ سے خواتین اور بچیاں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں اور مجرموں کو مناسب سزا نہ ملنے کی وجہ سے ان کے ذہن سے سزا کا خوف ختم ہو تاجارہا ہے۔ اگر ایسے سنگین سماجی جرائم کرنے والے مجرم کو صرف قید کی سزا دی گئی تو چھوٹنے کے بعد وہ اس طرح کا جرم دوبارہ کر سکتا ہے۔ مجرم نوین کو پولیس صبح قریب 10.30 بجے سخت سیکورٹی کے درمیان لے کر کورٹ پہنچی۔ یہاں اس کے چہرے پر ذرا سی بھی شرمندگی اور خوف محسو س نہیں کیا گیا، ستم تو یہ ہے کہ وہ پولیس والوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے بات بھی کر رہا تھا۔اس مقدمہ کے فیصلہ کے تناظر میں متاثرہ کی والدہ نے عدالتی کاروائی پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مجرم کو اس کے سامنے تختہ دار پرلٹکایا جائے تاکہ اس کو پھانسی پرلٹکائے جانے سے دوسروں کو بھی عبرت ملے۔واضح ہو کہ دوپہر 12 بجے اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ دوپہر 12.30 بجے جج نے ملزم سے کہا کہ کورٹ تمہیں مجرم مانتی ہے، اس سلسلے میں تم کچھ کہنا چاہتے ہو۔ اس کے جواب میں مجرم نے کہا کہ نہ میں نے بچی کو اٹھایا، نہ میں نے اس کے ساتھ زیادتی کی، نہ میں نے اسے مارا، آپ کو جو سزا سنانی ہو سنا دیں۔ باہر میری ماں اور بہن آئی ہوئی ہیں، صرف ان سے ایک بار ملاقات کی اجازت دے دیں۔ ملزم کے وکیل نے کہا نوین عادی مجرم نہیں ہے، اس کا گذشتہ میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، تو سزا میں نرمی برتی جانی چاہئے، اسے رہا کیا جانا چاہئے۔ تو اس کے جواب میں عدلیہ نے کہا کہ تو اس شکل میں اس کے عادی مجرم ہونے کا انتظار کیا جائے؟ مجرمانہ ریکارڈ ہونے کے بعد ہی کیا پھانسی دی جا سکتی ہے؟ وہ بچی اتنی معصوم تھی کہ رونے کے سوائے کچھ نہیں جانتی تھی؛لیکن اس معصوم کے ساتھ وحشیانہ سلوک کیا گیا ہے؛لہٰذا پھانسی سے کم سزا دی گی تو یہ ناانصافی ہوگی۔